نئی دہلی،26؍ستمبر (ایس او نیوز؍یواین آئی) سپریم کورٹ میں آج اجودھیا تنازع کی سماعت کے 31ویں دن سنی وقف بورڈنے کل کے اپنے بیان پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ رام چبوترے کو بھگوان رام کا جنم استھان نہیں مانتا۔ وقف بورڈ کے سینئر ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی نے کہا کہ فیض آباد عدالت کے 1885 کے اس فیصلہ کو محض چیلنج نہیں کیا گیا جس میں اس نے کہا تھا کہ ہندو رام چبوترے کو رام کے جنم استھان کے طور پر مانتے ہیں۔
ظفریاب جیلانی نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سنی وقف بورڈ کا یہ موقف کبھی نہیں رہا کہ ہم رام چبوترے کو بھگوان رام کا جنم استھان مانتے ہیں۔ نیز بورڈ ابھی تک یہ نہیں مانتا ہے کہ رام چبوترا ہی وہ جگہ ہے جہاں رام کا جنم ہوا تھا۔
بورڈ کی طرف سے ظفریاب جیلانی نے جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر کی آئینی بنچ کے سامنے وضاحت پیش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ان کا موقف وہی ہے جو سینئر وکیل راجیو دھون کا ہے۔ جیلانی نے یہ وضاحت میڈیا کے کچھ حلقوں میں شائع اس رپورٹ پر دی جس میں کہا گیا تھا کہ سنی وقف بورڈ نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ رام چبوترا ہی رام جنم استھان تھا۔
دھون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ مانتے ہیں کہ اجودھیا میں بھگوان رام کا جنم ہوا تھا لیکن کہاں وہ نہیں بتا سکتے۔ وہیں جیلانی نے 1862 کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں جنم استھان کو ایک الگ مندر بتایا گیا ہے۔ جسٹس بوبڈے نے کہا کہ کئی گزیٹیئر میں کہا گیا ہے کہ رام چبوترا ہی رام جنم استھان ہے اور مرکزی گنبد سے 40 سے 50 فٹ دور ہے۔ اس پر جیلانی نے کہا کہ یہ ہندووں کا خیال ہے ان کا نہیں۔
جسٹس بھوشن نے کہا انگریزوں نے اس جگہ کو دوحصوں میں تقسیم کیا تھا۔ اندورنی اور بیرونی کورٹ یارڈ۔ اس لئے انہوں نے باہری کورٹ یارڈ میں پوجا کرنا شروع کیا۔ جیلانی نے اپنی جرح پوری کرلی اور اب محکمہ آثار قدیم کی طرف سے سینئر وکیل میناکشی اروڑہ اپنی بات رکھ رہی ہیں۔